نئی دہلی،29/دسمبر(ایس او نیوز/ایجنسی) جموں وکشمیر کے پلوامہ میں سی آر پی ایف کے قافلے پر دہشت گردانہ حملے کے بعد جس طرح سے ہندوستانی فضائیہ نے ایر اسٹرائک کی تھی،ویسی ہی ایر اسٹرائک پہلے بھی کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ حالانکہ اس وقت کی حکومت نے اسے منظوری نہیں دی تھی۔ فضائیہ کے سابق سربراہ بی ایس دھنووا نے دعویٰ کیا ہے کہ پارلیمنٹ حملے اور ممبئی میں ہوئے 26/11 کے حملے کے بعد فضائیہ پوری طرح ایر اسٹرائک کرنے کو تیار تھی لیکن حکومت نے فضائیہ کی تجویز کو مسترد کر دیا تھا۔ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی کے ویرماتا جیجابائی ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں ایک پروگرام میں بولتے ہوئے فضائیہ کے سابق سربراہ بی ایس دھنووا نے کہا کہ ممبئی حملے کے بعد ہم جانتے تھے کہ پاکستان میں دہشت گردانہ ٹھکانے کہاں ہیں۔ پاکستان میں موجود سبھی دہشت گردانہ ٹھکانوں کو نیست ونابود کرنے کے لئے ہم پوری طرح سے تیار تھے۔ حملہ کرنا ہے یا نہیں اس کی اجازت دینا سیاسی فیصلہ تھا۔ حالانکہ حکومت نے انہیں ایسا کوئی بھی قدم اٹھانے کی اجازت نہیں دی۔ بتا دیں کہ بی ایس دھنووا 31 دسمبر 2016 سے 30 ستمبر 2019 تک ہندوستانی فضائیہ کے سربراہ تھے۔